MOJ E SUKHAN

کوئی منظر بھی سہانا نہیں رہنے دیتے

کوئی منظر بھی سہانا نہیں رہنے دیتے
آنکھ میں رنگ تماشا نہیں رہنے دیتے

چہچہاتے ہوئے پنچھی کو اڑا دیتے ہیں
کسی سر میں کوئی سودا نہیں رہنے دیتے

روشنی کا کوئی پرچم جو اٹھا کر نکلے
اس طرح دار کو زندہ نہیں رہنے دیتے

کیا زمانہ ہے یہ کیا لوگ ہیں کیا دنیا ہے
جیسا چاہے کوئی ویسا نہیں رہنے دیتے

کیا کہیں دیدہ ورو ہم تو وہ دریا دل ہیں
کبھی ساحل کو بھی پیاسا نہیں رہنے دیتے

رہزنوں کا وہی منشور ہے اب بھی فارغؔ
سر کشیدہ کوئی جادہ نہیں رہنے دیتے

فارغ بخاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم