MOJ E SUKHAN

کوئی میرا امام تھا ہی نہیں

غزل

کوئی میرا امام تھا ہی نہیں
میں کسی کا غلام تھا ہی نہیں

تم کہاں سے یہ بت اٹھا لائے
اس کہانی میں رام تھا ہی نہیں

جس قدر شور آب و گل تھا یہاں
اس قدر اہتمام تھا ہی نہیں

اس لیے سادھ لی تھی چپ میں نے
اس سے بہتر کلام تھا ہی نہیں

ہم نے اس وقت بھی محبت کی
جب محبت کا نام تھا ہی نہیں

تو کہاں راستے میں آ گئی ہے
زندگی تجھ سے کام تھا ہی نہیں

وقت نے لا کھڑا کیا اس جا
جو ہمارا مقام تھا ہی نہیں

اس لیے خاص کر دیا گیا عشق
عام لوگوں کا کام تھا ہی نہیں

عمران عامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم