MOJ E SUKHAN

کوئی ناؤ نہیں تیار کرنا

غزل

کوئی ناؤ نہیں تیار کرنا
مجھے آتا ہے دریا پار کرنا

محبت کی نشانی ہوں تمہاری
مجھے تم دیکھ کر مسمار کرنا

میں اک زندہ حقیقت بن چکی ہوں
نہیں ممکن مرا انکار کرنا

کہانی ختم ہو جانے سے پہلے
کہانی اک نئی تیار کرنا

دل کمبخت کو عادت پڑی ہے
ہمیشہ خواہش بے کار کرنا

کسی کو گفتگو کرنا سکھانا
کسی کو صورت دیوار کرنا

کبھی سوچا نہیں میں نے سفر میں
کسی کا راستہ دشوار کرنا

محبت راشدہؔ ماہینؔ کیا ہے
جسے آتا نہ ہو اظہار کرنا

راشدہ ماہین ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم