MOJ E SUKHAN

کوئی ٹکرا کے سبک سر بھی تو ہو سکتا ہے

کوئی ٹکرا کے سبک سر بھی تو ہو سکتا ہے
میری تعمیر میں پتھر بھی تو ہو سکتا ہے

کیوں نہ اے شخص تجھے ہاتھ لگا کر دیکھوں
تو مرے وہم سے بڑھ کر بھی تو ہو سکتا ہے

تو ہی تو ہے تو پھر اب جملہ جمال دنیا
تیرا شک اور کسی پر بھی تو ہو سکتا ہے

یہ جو ہے پھول ہتھیلی پہ اسے پھول نہ جان
میرا دل جسم سے باہر بھی تو ہو سکتا ہے

شاخ پر بیٹھے پرندے کو اڑانے والے
پیڑ کے ہاتھ میں پتھر بھی تو ہو سکتا ہے

کیا ضروری ہے کہ باہر ہی نمو ہو میری
میرا کھلنا مرے اندر بھی تو ہو سکتا ہے

یہ جو ہے ریت کا ٹیلہ مرے قدموں کے تلے
کوئی دم میں مرے اوپر بھی تو ہو سکتا ہے

کیا ضروری ہے کہ ہم ہار کے جیتیں تابشؔ
عشق کا کھیل برابر بھی تو ہو سکتا ہے

عباس تابش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم