مرزا غالب کی روح سے معذرت کے ساتھ
غزل
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی چھٹی نظر نہیں آتی
حلوہ ملنا ہے پر نہیں ملتا
چائے آنی ہے پر نہیں آتی
جو پڑوسی کے گھر میں آئی ہے
وہ مٹھائی ادھر نہیں آتی
دودھ گھی گر نظر نہیں آتا
بو بھی اس کی مگر نہیں آتی
امتحاں کیا قریب ہے یارو
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
ٹیچروں سے نجات پانے کی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
ہم کو مرغا بنا کے کرسی پر
شرم اے ماسٹر نہیں آتی
روز پڑھنا بھی اک مصیبت ہے
چھٹیوں کی خبر نہیں آتی
سارے ٹیچر ہوں خوش سدا ہم سے
اس کی صورت نظر نہیں آتی
بس ریاضی کو دیکھ کر چپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
خوب سوتے مزے سے ہم لیکن
کوئی شب بے سحر نہیں آتی
شوکت پردیسی