MOJ E SUKHAN

کوئی چھٹی نظر نہیں آتی

مرزا غالب کی روح سے معذرت کے ساتھ

غزل

کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی چھٹی نظر نہیں آتی

حلوہ ملنا ہے پر نہیں ملتا
چائے آنی ہے پر نہیں آتی

جو پڑوسی کے گھر میں آئی ہے
وہ مٹھائی ادھر نہیں آتی

دودھ گھی گر نظر نہیں آتا
بو بھی اس کی مگر نہیں آتی

امتحاں کیا قریب ہے یارو
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

ٹیچروں سے نجات پانے کی
کوئی صورت نظر نہیں آتی

ہم کو مرغا بنا کے کرسی پر
شرم اے ماسٹر نہیں آتی

روز پڑھنا بھی اک مصیبت ہے
چھٹیوں کی خبر نہیں آتی

سارے ٹیچر ہوں خوش سدا ہم سے
اس کی صورت نظر نہیں آتی

بس ریاضی کو دیکھ کر چپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی

خوب سوتے مزے سے ہم لیکن
کوئی شب بے سحر نہیں آتی

شوکت پردیسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم