MOJ E SUKHAN

کوئی کر سکتا ہے یارو جیسا میں نے کام کیا

غزل

کوئی کر سکتا ہے یارو جیسا میں نے کام کیا
یار کے ذمے دی کردی نیکی اپنے تئیں بد نام کیا

آنکھوں سے سہلایا کیا میں تلوے اس کے وقت خواب
اتنی خدمت دیکھ مری گھر غیر کے جا آرام کیا

کون سی شب بے نالہ و زاری میں نے نہیں کی اس بن صبح
کون سا دن بے رنج و مصیبت میں نہ رو رو شام کیا

کچھ نہ چلا بس اس پہ عزیزو اپنی ہی میں جان پہ کھیلا
آخر درد ہجر نے اس کے میرا کام تمام کیا

شب کہا میں نے اس سے مرا دل زلف کا تیری بندہ ہے
کیوں اسے تو نے قیدیٔ دام سنبل مشکیں فام کیا

کافی تھا اس کی بستگی کو تو تار کاکل رشتۂ زلف
کر کے اسیر حلقۂ گیسو کیوں اسے بے آرام کیا

چیں بہ جبیں ہو بولا دور ہو تجھ کو ہے سودا دیوانے
چھوٹنے کا کیوں اس کے تو نے دل میں خیال خام کیا

اول مرغ رشتہ بپا سا تھا پابند تار زلف
حلقۂ گیسو میں لا اس کو آخر صید دام کیا

آرزو یک بوسہ کی رکھتا دل میں جہاں دارؔ اے پیارے
لعل لب شیریں سے تم نے پر نہ کبھو انعام کیا

 

مرزا جواں بخت جہاں دار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم