MOJ E SUKHAN

کوششیں جتنی بھی ہوتی رہیں سلجھانے کی

غزل

کوششیں جتنی بھی ہوتی رہیں سلجھانے کی
زندگی اور الجھتی رہی دیوانے کی

جادہ پیمائی کا پھر شوق ہوا ہے مجھ کو
وسعتیں اور بڑھا دو ذرا ویرانے کی

ہو صداقت پہ جو مبنی ترے آنے کی خبر
اور بڑھ جائے گی رونق مرے کاشانے کی

لوگ کہتے ہیں کہ اکسیر صفت ہوتی ہے
ہم بھی کچھ خاک اٹھا لائے ہیں میخانے کی

ہے بڑا فرق اگر غور سے دیکھا جائے
ایک منزل ہی سہی شمع کی پروانے کی

عشق نے مجھ کو کہیں كا بھی نہ چھوڑا بسملؔ
اب ہے پہچان یگانے کی نہ بیگانے کی

بسمل آغائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم