MOJ E SUKHAN

کوششیں کر کے دل برا کیا تھا

کوششیں کر کے دل برا کیا تھا
اس پرندے کو جب رہا کیا تھا

کم اذیت میں جان چھوٹ گئی
اپنے قاتل سے مشورہ کیا تھا

خاک سے جتنا زہر جذب کیا
اپنی شاخوں سے رونما کیا تھا

میں نے اک دن بٹھا کے بچوں کو
اپنے اجداد کا گلا کیا تھا

ہم سے سرزد ہوا تھا کار خیر
کیا بتائیں کہ ہم نے کیا کیا تھا

ویسے وہ میری دسترس میں ہے
احتیاطاً محاصرہ کیا تھا

اظہر فراغ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم