MOJ E SUKHAN

کون سمجھے عشق کی دشواریاں

کون سمجھے عشق کی دشواریاں
اک جنوں اور لاکھ ذمہ داریاں

اہتمام زندگی عشق دیکھ
روز مر جانے کی ہیں تیاریاں

عشق کا غم وہ بھی تیرے عشق کا
کون کر سکتا مری غم خواریاں

بے خودی عشق جیسے غم کی نیند
غم کی نیندیں روح کی بیداریاں

عشق بھی ہے کس قدر بر خود غلط
ان کی بزم ناز اور خودداریاں

اس محبت اس جوانی کی قسم
پھر نہ یہ نیندیں نہ یہ بیداریاں

یہ نیاز آرزو مندی نہ دیکھ
اور کچھ ہیں عشق کی خودداریاں

اختلاج قلب کے دورے نہیں
عشق کی بسملؔ ہیں دل آزاریاں

بسمل سعیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم