MOJ E SUKHAN

کون سی مخلوق ہے یہ خاک پر

غزل

کون سی مخلوق ہے یہ خاک پر
چاہتی ہے تھوکنا افلاک پر

کھال کھینچیں آپ اس گستاخ کی
پھول کاڑھے آپ کی پوشاک پر

اپنے ہی سایوں پہ منڈلاتے عقاب
گدھ بنے اتریں گے ارض پاک پر

فکر ہے گھر کی نہ ان کو سر کا ہوش
بس کہیں مکھی نہ بیٹھے ناک پر

بڑھتا ہی جاتا ہے اک ملبے کا ڈھیر
چاک توڑے جا رہے ہیں چاک پر

گھر کے مالک تو کھنڈر کے بیچوں بیچ
لڑ رہے ہیں اب خس و خاشاک پر

لوگ ہیں یا تربتوں کے سوکھے پھول
ہنس رہے ہیں دیدۂ نمناک پر

فیصل عظیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم