MOJ E SUKHAN

کٹ گئیں جب جوش اظہار ہنر میں انگلیاں

غزل

کٹ گئیں جب جوش اظہار ہنر میں انگلیاں
تب کہیں ڈوبیں مرے خون جگر میں انگلیاں

دیکھیے انجام کیا ہو اب وفا کی راہ پر
ہم پہ تو اٹھی ہیں آغاز سفر میں انگلیاں

آخر شب میں دیا خود کو بنایا تھا کبھی
آج بھی جلتی ہیں امید سحر میں انگلیاں

لکھ رہی ہیں ریگ ساحل پر انوکھی خواہشیں
آ گئی ہیں تیری باتوں کے اثر میں انگلیاں

روشنی لکھی ہے میں نے گو مجھے معلوم تھا
کاٹ دی جاتی ہیں اس اندھے نگر میں انگلیاں

لاش کے ہاتھوں پہ ہیں کیسے نشاں زنجیر کے
کس کی جانب اٹھ رہی ہیں اس خبر میں انگلیاں

فیصل عظیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم