MOJ E SUKHAN

کچھ اس طرح سے نظر سے گزر گیا کوئی

کچھ اس طرح سے نظر سے گزر گیا کوئی
کہ دل کو غم کا سزاوار کر گیا کوئی

دل ستم زدہ کو جیسے کچھ ہوا ہی نہیں
خود اپنے حسن سے یوں بے خبر گیا کوئی

وہ ایک جلوۂ صد رنگ اک ہجوم بہار
نہ جانے کون تھا جانے کدھر گیا کوئی

نظر کہ تشنۂ دیدار تھی رہی محروم
نظر اٹھائی تو دل میں اتر گیا کوئی

نگاہ شوق کی محرومیوں سے ناواقف
نگاہ شوق پہ الزام دھر گیا کوئی

اب ان کے حسن میں حسن نظر بھی شامل ہے
کچھ اور میری نظر سے سنور گیا کوئی

کسی کے پاؤں کی آہٹ کہ دل کی دھڑکن تھی
ہزار بار اٹھا سوئے در گیا کوئی

نصیب اہل وفا یہ سکون دل تو نہ تھا
ضرور نالۂ دل بے اثر گیا کوئی

اٹھا پھر آج مرے دل میں رشک کا طوفاں
پھر ان کی راہ سے با چشم تر گیا کوئی

یہ کہہ کے یاد کریں گے حفیظؔ دوست مجھے
وفا کی رسم کو پایندہ کر گیا کوئی

حفیظ ہوشیار پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم