MOJ E SUKHAN

کچھ اکیلی نہیں مری قسمت

کچھ اکیلی نہیں مری قسمت
غم کو بھی ساتھ لگا لائی ہے

منتظر دیر سے تھے تم میرے
اب جو تشریف صبا لائی ہے

نگہت زلف غبار ِرہِ دوست
آخر اس کوچہ سے کیا لائی ہے

موت بھی روٹھ گئی تھی مجھ سے
یہ شب ہجر منا لائی ہے

مجھ کو لے جا کے مری آنکھ وہاں
اک تماشا سا دکھا لائی ہے

آہ کو سوئے اثر بھیجا تھا
واں سے کیا جانیے کیا لائی ہے

شبلیٔ زار سے کہہ دے کوئی
مژدۂ وصل صبا لائی ہے

شبلی نعمانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم