MOJ E SUKHAN

کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئے

کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئے
ہم اور جاتے بزم عدو میں مگر گئے

یہ تو خبر نہیں کہ کہاں اور کدھر گئے
لیکن یہاں سے دور کچھ اہل سفر گئے

ارماں جو ہم نے جمع کئے تھے شباب میں
پیری میں وہ خدا کو خبر ہے کدھر گئے

رتبہ بلند ہے مرے داغوں کا اس قدر
میں ہوں زمیں پہ داغ مرے تا قمر گئے

رخسار پر ہے رنگ حیا کا فروغ آج
بوسے کا نام میں نے لیا وہ نکھر گئے

دنیا بس اس سے اور زیادہ نہیں ہے کچھ
کچھ روز ہیں گزارنے اور کچھ گزر گئے

جانے لگا ہے دل کی طرف ان کا ہاتھ اب
نالے شب فراق کے کچھ کام کر گئے

حسرت کا یہ مزا ہے کہ نکلے نہیں کبھی
ارماں نہیں ہیں وہ کہ شب آئے سحر گئے

بس ایک ذات حضرت شیداؔ کی ہے یہاں
دہلی سے رفتہ رفتہ سب اہل ہنر گئے

حکیم محمد اجمل خان شیدا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم