MOJ E SUKHAN

کچھ بس نہ چلا جذبۂ خود کام کے آگے

غزل

کچھ بس نہ چلا جذبۂ خود کام کے آگے
جھکنا ہی پڑا اس بت بدنام کے آگے

اک اور بھی حسرت ہے پس حسرت دیدار
اک اور بھی آغاز ہے انجام کے آگے

آ اور ادھر کوئی تجلی کی کرن پھینک
بیٹھے ہیں گدا تیرے در و بام کے آگے

یہ عشق ہے بازیچۂ اطفال نہیں ہے
کچھ اور بھی ہے کوچۂ اصنام کے آگے

یوں ان کی جفاؤں سے ملی ہم کو بصیرت
ہم جھک نہ سکے گردش ایام کے آگے

دن ڈھلنے لگا دل زدگاں دل کی خبر لو
اک سلسلۂ حجاز بھی ہے شام کے آگے

اب کچھ بھی نہیں حاصل‌ تدبیر محبت
اب کچھ بھی نہیں نامہ و پیغام کے آگے

اک سحر سا طاری تھا ظہیرؔ اہل خرد پر
تھے مہر بہ لب حسن دل آرام کے آگے

ظہیر کاشمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم