MOJ E SUKHAN

کچھ بھی دشوار نہیں عزم جواں کے آگے

غزل

کچھ بھی دشوار نہیں عزم جواں کے آگے
آشیاں بنتے گئے برق تپاں کے آگے

زندگی نغمۂ دلکش ہے مگر اے ناداں
تو نے سیکھا ہی نہیں آہ و فغاں کے آگے

قصۂ بزم طرب تذکرۂ موسم گل
خوب ہیں یوں تو مگر سوختہ جاں کے آگے

ہم ہیں اور فصل خزاں فصل خزاں ہے اور ہم
ہم سے کیا پوچھتے ہو فصل خزاں کے آگے

دسترس عقل کی ہے سرحد ادراک سہی
منزلیں اور بھی ہیں وہم و گماں کے آگے

زحمت یک نگہ لطف کبھی تو اے دوست
ہم کو کہنا ہے بہت لفظ و بیاں کے آگے

یوں تو دوزخ میں بھی ہنگامے بپا ہیں لیکن
پھیکے پھیکے سے ہیں آشوب جہاں کے آگے

حبیب احمد صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم