MOJ E SUKHAN

کچھ حقیقت تو ہوا کرتی تھی انسانوں میں

غزل

کچھ حقیقت تو ہوا کرتی تھی انسانوں میں
وہ بھی باقی نہیں اس دور کے انسانوں میں

وقت کا سیل بہا لے گیا سب کچھ ورنہ
پیار کے ڈھیر لگے تھے مرے گل دانوں میں

شاخ سے کٹنے کا غم ان کو بہت تھا لیکن
پھول مجبور تھے ہنستے رہے گل دانوں میں

ان کی پہچان کی قیمت تو ادا کرنی تھی
جانتا ہے کوئی اپنوں میں نہ بیگانوں میں

سر ہی ہم پھوڑنے جائیں تو کہاں جائیں گے
کھوکھلے کانچ کے بت ہیں ترے بت خانوں میں

سعید احمد اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم