غزل
کچھ عجب حال ہے مرے جی کا
اس کے ماتھے پہ دیکھ کر ٹیکا
بزم میں اس طرح وہ در آئے
شمع کا رنگ پڑ گیا پھیکا
زندگی تجھ سے چھوٹ کر پیارے
ایک جنجال ہے مرے جی کا
اے پپیہے تجھے خدا کی قسم
نام برسات میں نہ لے پی کا
کسی صورت نہ کامگار ہوا
بخت کو اپنے عمر بھر جھیکا
مہرباں تم جو تھے تو گردش چرخ
بال میرا نہ کر سکی بیکا
اہل عشرت ادھر نہ آئیں جلیلؔ
عشق ہے سربسر زیاں جی کا
جلیل قدوائی