MOJ E SUKHAN

کچھ نظر اور جھکا کر ملنا

غزل

کچھ نظر اور جھکا کر ملنا
مجھ کو پلکوں میں چھپا کر ملنا

شہر دل شہر خموشاں تو نہیں
پھر بھی تم پاؤں دبا کر ملنا

پیر اشکوں سے دھلا دوں گا میں
تم مرے گھر کبھی آ کر ملنا

نیند آنکھوں میں بھلی لگتی ہے
مجھ کو نیندوں میں بسا کر ملنا

مجھ کو آواز نہ دینا ہرگز
میری تنہائی پہ چھا کر ملنا

وہ جو چپ چاپ سا بیٹھا ہے وہاں
اس کی آنکھوں میں سما کر ملنا

ہاں وہی شخص ہے اقبال متینؔ
آئنہ اس کو دکھا کر ملنا

اقبال متین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم