MOJ E SUKHAN

کچھ نہ کچھ تو چھپا رہے ہو تم

کچھ نہ کچھ تو چھپا رہے ہو تم
یہ جو آنکھیں چرا رہے ہو تم

جیسے مجھ کو خرید لائے ہو
حق تو ایسے جتا رہے ہو تم

مجھ کو اپنا بنا رہے ہو یا
صرف باتیں بنا رہے ہو تم

عام سی بات ہے بچھڑ جانا
کیوں قیامت اُٹھا رہے ہو تم

سب کی باتیں ادہر اُدہر کر کے
خود کو کتنا گرا رہے ہو تم

جتنا تم کو بھلا رہی ہوں میں
اتنا ہی یاد آ رہے ہو تم

بند تو کردو دل کا دروازہ !
آرہے ہو کہ جا رہے ہو تم !

میں ہوں مصروف گھر کے کاموں میں
فون کر کے ستا رہے ہو تم

میٓر کو پڑہنا چاہتی ہے ثبین
اور غالبٓ پڑہا رہے ہو تم

ثبین سیف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم