MOJ E SUKHAN

کچھ یہ مجھی کو یوں نہیں اس کی پھبن نے غش کیا

کچھ یہ مجھی کو یوں نہیں اس کی پھبن نے غش کیا
غنچے بھی چٹ سے فق ہوئے سارے چمن نے غش کیا

نالہ بھرا جو یاد میں میں نے شمیم یار کی
نبضیں گلوں کی چھٹ گئیں بوئے سمن نے غش کیا

میرے تمہارے رابطے دیکھے بہم تو رشک سے
نل تو پچھاڑ کھا گرا اس کی دمن نے غش کیا

میں نے دوپٹا جب ترا آنکھوں سے اپنی مل لیا
اس کی شمیم ناز سے باد یمن نے غش کیا

اچھی غزل پڑھ اور ایک انشا بدل کے بحر اب
سنتے ہی تیری گفتگو اہل سخن نے غش کیا

انشاء اللہ خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم