MOJ E SUKHAN

کھلتی نہیں ہے دل کی کلی میں اداس ہوں

کھلتی نہیں ہے دل کی کلی میں اداس ہوں
دنیا منا رہی ہے خوشی میں اداس ہوں

جذبوں کی داستاں مری کوئی نہ سن سکا
ہر بات دل کی دل میں رہی میں اداس ہوں

چھایا ہوا ہے دل پہ زمانے کے غم کا بوجھ
گرچہ وصال کی ہے گھڑی میں اداس ہوں

ہر موڑ پر الم مجھے ملنے کو آ گئے
بگڑی ہوئی مری نہ بنی میں اداس ہوں

بے چارگی میں کٹنے لگے روز و شب مرے
وہ کر سکا نہ چارہ گری میں اداس ہوں

بے چہرگی کا رنج لیے پھر رہی ہوں میں
صورت گری کہیں نہ رہی میں اداس ہوں

ویران رہگزر پہ اکیلی سفر میں ہوں
بڑھنے لگی ہے تیرگی بھی میں اداس ہوں

رہتے نہیں ہیں چین سے دونوں کبھی رجب
پہلے اداس تھا وہ ابھی میں اداس ہوں

رجب چودھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم