MOJ E SUKHAN

کھلے ہوئے ہیں پھول ستارے دریا کے اس پار

غزل

کھلے ہوئے ہیں پھول ستارے دریا کے اس پار
اچھے لوگ بسے ہیں سارے دریا کے اس پار

مہکی راتیں دوست ہوائیں پچھلی شب کا چاند
رہ گئے سب خوش خواب نظارے دریا کے اس پار

بس یہ سوچ کے سرشاری ہے اب بھی اپنے لیے
بہتے ہیں خوشبو کے دھارے دریا کے اس پار

شام کو زندگی کرنے والے رنگ برنگے پھول
پھول وہ سارے رہ گئے پیارے دریا کے اس پار

یوں لگتا ہے جیسے اب بھی رستہ تکتے ہیں
گئے زمانے ریت کنارے دریا کے اس پار

گونجتی ہے اور لوٹ آتی ہے اپنی ہی آواز
آخر کب تک کوئی پکارے دریا کے اس پار

دہکی ہوئی اک آگ ہے صابرؔ اپنے سینے میں
جاتے نہیں پر اس کے شرارے دریا کے اس پار

صابر وسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم