MOJ E SUKHAN

کھوں میں آج بپھرا سمندر سمیٹ لوں

آنکھوں میں آج بپھرا سمندر سمیٹ لوں
تم ساتھ دو تو بکھرا مقدر سمیٹ لوں

زلفیں بکھرنے سے کہیں موسم بدل گیا
میں سوچتا ہوں آج یہ عنبر سمیٹ لوں

باہر نظر نہ آئے کسی کو جمال پھر
کر انتظام ایسا کہ اندر سمیٹ لوں

جانا ہے اب تو مجھ کو منٰی کی طرف اگر
بکھرے ہوئے ہیں جو سات کنکر سمیٹ لوں

ٹھنڈک رہے گی آنکھ میں قیصر مری سدا
اے جان تیرے حسن کے منظر سمیٹ لوں

رانا خالد محمود قیصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم