MOJ E SUKHAN

کہانیوں نے ذرا کھینچ کر بدن اپنے

غزل

کہانیوں نے ذرا کھینچ کر بدن اپنے
حرم سرا سے بلایا ہمیں وطن اپنے

کھلے گلے کی قمیصیں کھلے گلے کے فراق
یہ لڑکیاں ہیں بدلتی ہیں پیرہن اپنے

غدر کے پھول سجاتی ہیں ایسے بالوں میں
سنبھال سکتی ہوں جیسے بھرے بدن اپنے

عجب بھڑک ہے شرابوں کی اور آنکھوں کی
بلا ہے حسن بدکنے لگے ہیں بن اپنے

پرائے درد کی ٹھکری سے گھر کریں روشن
کہ سفلگی کی ریاضت میں ہیں مگن اپنے

یہ انکسار کے پتلے یہ سیم و زر کی ثنا
یہ مسخرے ہیں کہ چولے میں گورکن اپنے

ہمیں نکالو گھروں کی کمین گاہوں سے
لہو کے رم سے دہکنے لگے ختن اپنے

ہم احتیاج کے حجروں سے رزق چنتے ہوئے
زمیں کے خوان پہ رکھنے لگے لگن اپنے

یہ آرزوؤں کے چقماق سے جلے سینے
جو آتشیں ہیں مگر نوچتے ہیں تن اپنے

یہاں زمین پہ بلوے یہاں زمیں پہ فساد
نکال رکھتے ہیں صندوق سے کفن اپنے

وہ باس دور کے خطوں کی عورتوں میں اڑی
جسے جہازوں میں لائے تھے ہم سخن اپنے

عامر سہیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم