MOJ E SUKHAN

کہاں کا صبر سو سو بار دیوانوں کے دل ٹوٹے

غزل

کہاں کا صبر سو سو بار دیوانوں کے دل ٹوٹے
شکست دل کے خدشے ہی سے نادانوں کے دل ٹوٹے

گرے ہیں ٹوٹ کر کچھ آئنے شاخوں کی پلکوں سے
یہ کس کی آہ تھی کیوں شبنمستانوں کے دل ٹوٹے

اس آرائش سے تو کچھ اور ابھری ان کی ویرانی
ببولوں پر بہار آئی تو ویرانوں کے دل ٹوٹے

وہ محرومی کا جوش خواب پرور اب کہاں باقی
بر آئیں اتنی امیدیں کہ ارمانوں کے دل ٹوٹے

انہیں اپنے گداز دل سے اندازہ تھا اوروں کا
جب انسانوں کے دل دیکھے تو انسانوں کے دل ٹوٹے

قفس سے حسن گل کے قدرداں اب تک نہیں پلٹے
شگوفوں کے تبسم سے گلستانوں کے دل ٹوٹے

ضیاؔ اپنی تباہی پر انہیں بھی ناز تھے کیا کیا
ہمیں دیکھا تو صحراؤں بیابانوں کے دل ٹوٹے

ضیا جالندھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم