MOJ E SUKHAN

کہو پڑے رہیں چپ چاپ خواب اپنی جگہ

زمیں غبار سمندر سحاب اپنی جگہ
مگر میں اور مرا اضطراب اپنی جگہ

ہوا کی زد میں ہے ہر چیز خار و خس کی طرح
کہو پڑے رہیں چپ چاپ خواب اپنی جگہ

اگرچہ بکھری ہے راکھ اس کی میرے چاروں طرف
وہ لمحہ اب بھی ہے اپنا جواب اپنی جگہ

مرے عقب میں ہے آوازۂ نمو کی گونج
ہے دشت جاں کا سفر کامیاب اپنی جگہ

زباں کو دیتا ہے احساس تشنگی سے نجات
وہ ذائقہ ہے سکوت سراب اپنی جگہ

نہ جانے ہوگا کہاں خیمۂ بدن عشرتؔ
کہ چھوڑنے کو ہے ہر اک طناب اپنی جگہ

عشرت ظفر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم