MOJ E SUKHAN

کہیں زمیں تو کہیں آسمان ہے عورت

کہیں زمیں تو کہیں آسمان ہے عورت
حیا کے ساتھ ہے تو اک جہان ہے عورت

کہیں نشاں توکہیں بے نشانیاں اس کی
ہے داستاں تو کہیں رازدان ہے عورت

کبھی کبھی تو سمیٹے ہوئے وہ سسکیوں کو
بہت خموش ہے لیکن بیان ہے عورت

بہن ہے بیوی ہے اور ہے یہاں پہ اک بیٹی
جو ماں کا روپ ہو تو سائبان ہے عورت

ہزار مشکلوں کو جھیل مسکراتی ہے
سمجھ سکو تو اسے داستان ہے عورت

سکھاتی ہے وہ تو آداب اپنے نسلوں کو
روایتوں میں سجی ایک شان ہے عورت

کہیں کہیں تو زمیں تنگ ہے بہت اس پر
کہیں کہیں تو بہت بد زبان ہے عورت

جو باپ بھائی اور شوہر کا اعتماد لئے
بچھائے اپنی محبت تو جان ہے عورت

پہن لیا ہے یہاں جس نے خواہشوں کا بدن
دھواں دھواں ہے وہی بدگمان ہے عورت

خدا کے سامنے سجدے کیے نہیں بکھری
اڑان اپنے لئے ، اک چٹان ہے عورت

وہ جس کے پاؤں کے نیچے سجائی ہے جنت
ردا وہی تو بہت مہربان ہے عورت

ردا فاطمہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم