MOJ E SUKHAN

کہیں سے نیلے کہیں سے کالے پڑے ہوئے ہیں

کہیں سے نیلے کہیں سے کالے پڑے ہوئے ہیں
ہمارے پیروں میں کتنے چھالے پڑے ہوئے ہیں

کہیں تو جھکنا پڑے گا نان جویں کی خاطر
نہ جانے کس کے کہاں نوالے پڑے ہوئے ہیں

وہ خوش بدن جس گلی سے گزرا تھا اس گلی میں
ہم آج بھی اپنا دل سنبھالے پڑے ہوئے ہیں

ہماری خاطر بھی فاتحہ ہو برائے بخشش
ہم آپ اپنے پہ خاک ڈالے پڑے ہوئے ہیں

شہید ہیں ہم ہمیں کبھی رفتگاں نہ سمجھو
نہ جانے کب سے اجل کو ٹالے پڑے ہوئے ہیں

کہو تو دے دیں ہم آج تم کو حساب مستی
کہ ہم نے جتنے بھی جام اچھالے پڑے ہوئے ہیں

ہماری آنکھوں میں جب سے اترا ہے چاند کوئی
ہماری آنکھوں کے گرد ہالے پڑے ہوئے ہیں

ابھی تو ہم نے یہ زندگی اس کے نام کی ہے
ابھی تو جاں کے کئی ازالے پڑے ہوئے ہیں

یقیں نہیں ہے خود اپنے ہونے کا ہم کو ورنہ
کئی مثالیں کئی حوالے پڑے ہوئے ہیں

ہمارے کمرے میں اس کی یادیں نہیں ہیں فاضلؔ
کہیں کتابیں کہیں رسالے پڑے ہوئے ہیں

فاضل جمیلی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم