Kia bataeen Kia nahi sehty Rahay
غزل
کیا بتائیں کیا نہیں سہتے رہے
کس طرح جیتے رہے مرتے رہے
کون کرتا اب بلاؤں کا شمار
ہر طرف سے حادثے بڑھتے رہے
کشمکش میں کٹ گئی یہ زندگی
خود ہی اپنے آپ سے لڑتے رہے
اپنے گھر میں بے حسی کی تھی شراب
پاس کے سارے ہی گھر جلتے رہے
روز روحیں آ رہی تھیں فرش پر
لوگ خود کو مارتے مرتے رہے
ادھ جلے بچے کا لاشا دیکھ کر
محفلوں میں ذکر بس کرتے رہے
کوئی سننے کو نہیں تیار تھا
اور حق گوئی سے سب ڈرتے رہے
اپنی کمزوری کا ہر الزام ہم
دوسروں کے سر پہ ہی دھرتے رہے
میکدے میں ہاؤ ھو کا تھا چلن
اشک پیمانوں میں ہم بھرتے رہے
تم بدلتے ہی نہیں حشام جی
تم جو کرتے آئے تھے کرتے رہے
حشام سید
Hasham syed