MOJ E SUKHAN

کیا خبر تجھ کو او دامن کو چھڑانے والے

غزل

کیا خبر تجھ کو او دامن کو چھڑانے والے
اور بھی ہیں مجھے سینے سے لگانے والے

ناپتے کیسے مرے ظرف کی گہرائی کو
ڈبکیاں خطۂ ساحل میں لگانے والے

اے ہواؤ نہ کہیں ہاتھ جلا لو تم بھی
بجھ گئے میرے چراغوں کو بجھانے والے

جسم مر سکتا ہے آواز نہیں مرتی ہے
یاد رکھیں مری آواز دبانے والے

خود کو کیسے کسی منزل کے حوالے کرتا
منتظر تھے مری آمد کے زمانے والے

باپ کی قبر پہ مٹی بھی نہیں ڈالتے ہیں
پھول نیتاؤں کی قبروں پہ چڑھانے والے

عالم نظامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم