MOJ E SUKHAN

کیا خوب یہ انا ہے کہ کشکول توڑ کر

کیا خوب یہ انا ہے کہ کشکول توڑ کر

اب تک کھڑے ہوئے ہیں وہیں ہاتھ جوڑ کر

۔

مر ہی نہ جائے ضبط فغاں سے کہیں یہ شہر

سینے سے اس کے آہ نکالو جھنجھوڑ کر

۔

سنت ہے کوئی ہجرت ثانی بھلا بتاؤ

جاتا ہے کوئی اپنے مدینے کو چھوڑ کر

۔

اس کے علاوہ کوئی ہمارا نہیں یہاں

جاؤ کوئی خدا کو بلا لاؤ دوڑ کر

۔

عاصمؔ یہ دکھ تو جھیلنے پڑتے ہیں عشق میں

چادر نہ ہو تو سوتے نہیں خاک اوڑھ کر

لیاقت علی عاصم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم