MOJ E SUKHAN

کیا دل کا یہ علاقہ خالی پڑا رہے گا

غزل

کیا دل کا یہ علاقہ خالی پڑا رہے گا
ہم تم نہ ہوں گے تو بھی میلہ لگا رہے گا

زخموں کو اشک خوں سے سیراب کر رہا ہوں
اب اور بھی تمہارا چہرہ کھلا رہے گا

بند قبا کا کھلنا مشکل بہت ہے لیکن
لیکن کھلا تو پھر یہ عقدہ کھلا رہے گا

سرگرمیٔ ہوا کو دیکھا ہے پاس دل کے
اس آگ سے یہ جنگل کب تک بچا رہے گا

کھلتی نہیں ہے یا رب کیوں نیند رفتگاں کی
کیا حشر تک یہ عالم سویا پڑا رہے گا

یکسر ہمارے بازو شل ہو گئے ہیں یا رب
آخر دراز کب تک دست دعا رہے گا

احمد محفوظ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم