MOJ E SUKHAN

کیا زمانے سے توقع رکھیں اچھائی کی

غزل

کیا زمانے سے توقع رکھیں اچھائی کی
یہ تو دنیا ہے نہ اپنوں کی نہ ہرجائی کی

جب سے دنیا نے مشینوں سے شناسائی کی
سب کی آنکھوں میں تھکن دیکھی ہے تنہائی کی

اک پڑاؤ ہے گھڑی دو گھڑی دم لینے کو
وہ گرفتار ہوا جس نے شناسائی کی

منصب و جبہ و دستار پہ موقوف نہیں
شخصیت اصل تو ہے قامت زیبائی کی

وہ تو خوشبو تھی بکھرنا تھا مقدر اس کا
یہ نصیب اس کا جو گلشن نے پذیرائی کی

جو سر بزم کہا دار پہ دہرایا وہی
میری گفتار میں جرأت رہی سچائی کی

گھاؤ بھرنے تھے جنہیں لے کے وہ نشتر آئے
کس مسیحا سے رکھیں آس مسیحائی کی

اب کہاں سرمد و منصور سے آشفتہ مزاج
رسم فرزانوں نے ڈالی ہے شکیبائی کی

دیکھنے سے کہاں کھلتا ہے سمندر کا مزاج
ڈوب کر بات کھلا کرتی ہے گہرائی کی

جانتا ہوں کہ کرامتؔ ہے مرے منصب کی
جو حریفوں نے سر بزم پذیرائی کی

کرامت غوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم