MOJ E SUKHAN

کیا قیامت ہے بتوں کی بزم میں جانے کا حظ

غزل

کیا قیامت ہے بتوں کی بزم میں جانے کا حظ
ہم کو خدمت کا انہوں کو کام فرمانے کا حظ

وصل میں بھی درد مندوں کو نہیں راحت نصیب
دیکھ لیجے شمع کے ملنے سے پروانے کا حظ

اس طرف گل ٹوٹتا ہے اس طرف بلبل کا دل
کیا رہا گلچیں کے ہاتھوں باغ میں جانے کا حظ

جی نکلتا ہے مرا اس پر کہ کب آئے گا ہاتھ
یار کے پاؤں پہ سر کو رکھ کے مر جانے کا حظ

بوجھتا ہے خوب کیفیت نظارے کی یقیںؔ
اس نگاہ مست سے لیتا ہے میخانے کا حظ

انعام اللہ خاں یقیں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم