MOJ E SUKHAN

کیا لطف زندگی کا جو نادانیاں نہ ہوں

غزل

کیا لطف زندگی کا جو نادانیاں نہ ہوں
سینے میں دل ہو اور پریشانیاں نہ ہوں

ترک تعلقات تو کرتے ہو دیکھنا
تم کو خدا نہ کردہ پشیمانیاں نہ ہوں

یہ ساری اضطراب مسلسل کی بات ہے
دل کو سکون ہو تو غزل خوانیاں نہ ہوں

زخم جگر کو اپنے چھپاتا رہا ہوں میں
اس خوف سے کہ ان کو پشیمانیاں نہ ہوں

وہ دن گزر گئے کہ محبت گناہ تھی
اب تو مشاہدات کو حیرانیاں نہ ہوں

اس دل پہ سوز و ساز محبت حرام ہے
جس میں نشاط غم کی فراوانیاں نہ ہوں

اے شوقؔ برق و باد کا اس میں قصور کیا
قسمت بری نہ ہو تو پریشانیاں نہ ہوں

شوق ماہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم