غزل
کیا کشش اللہ رے دنیائے آب و گل میں ہے
تا ابد جینے کی خواہش ہر بشر کے دل میں ہے
بیت جائے کیا خدا جانے جہان شوق پر
وہ تو کہیے لیلائے حسن ازل محمل میں ہے
کچھ ہمیں پہچانتے ہیں روئے تاباں کو ترے
ذکر تیرے حسن کا کہنے کو ہر محفل میں ہے
کاش یہ کھل جائے تجھ پر اے اسیر آب و گل
اک سرور بے کراں تسخیر آب و گل میں ہے
کوئی محرم ہی نہیں جب راز ہائے عشق کا
ہم کسی کو کیا بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے
عشق نے طے کر لئے ہفت آسماں مدت ہوئی
عقل ناداں گم ابھی تک جادۂ منزل میں ہے
رہزن ہوش و خرد ہے یہ جہان رنگ و بو
خود سے بیگانہ ہے صابرؔ جو بھی اس محفل میں ہے
صابر ابوہری