MOJ E SUKHAN

کیا کہئے داستان تمنا بدل گئی

کیا کہئے داستان تمنا بدل گئی
ان کی بدلتے ہی دنیا بدل گئی

یہ دور انقلاب ہے خود نوشیوں کا دور
ہر میکدے میں گردش مینا بدل گئی

ہر پھول ہر کلی پہ برستا ہے اب لہو
رنگینیٔ بہار چمن کیا بدل گئی

نکھری ہوئی بہار میں چھالے ہیں خونچکاں
اپنے قدم سے قسمت صحرا بدل گئی

پیہم ٹپک پڑے جو بہ حسرت حضور دوست
ان آنسوؤں سے شرح تمنا بدل گئی

آزادیٔ جنوں کا یہی کیا مآل تھا
زنداں سے دلفریبیٔ صحرا بدل گئی

وہ خواب زندگی تھا جو ہم دیکھتے رہے
اے دلؔ کھلی جب آنکھ تو دنیا بدل گئی

دل شاہ جہاں پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم