MOJ E SUKHAN

کیا ہوں میں اس کی چشمِ صد اعجاز کے بغیر

کیا ہوں میں اس کی چشمِ صد اعجاز کے بغیر
کچھ بھی نہیں ہو اس نگہِ ناز کے بغیر

کھولی ہی تھی زبان کہ لب سی دئیے گئے
اک قصہ ختم ہو گیا آغاز کے بغیر

لب بستگی نہ دیکھ مرا رقصِ عمر دیکھ
یہ گیت گا رہا ہوں میں آواز کے بغیر

اک شان سے کیا ہے سفر شہرِ درد میں
اٹھا نہیں ہے کوئی قدم ناز کے بغیر

شکوہ کناں بھی اس سے رہوں اور جب وہ جائے
رہ بھی نہ پاؤں اس بتِ طنار کے بغیر

وہ بادشاہِ ملکِ سخن ہوں جو خوش رہے
تاج و کلاہ و منصب و اعجاز کے بغیر

ڈاکٹر اقبال پیرزادہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم