MOJ E SUKHAN

کیا یہ دیکھیں کہ کوئی اور تماشا کیا ہے

غزل

کیا یہ دیکھیں کہ کوئی اور تماشا کیا ہے
ہم کو خود اپنے علاوہ نظر آتا کیا ہے

بعض دریاؤں کے منظر بھی عجب ہوتے ہیں
آدمی سوچتا رہ جائے کہ صحرا کیا ہے

وہ تو اچھا ہے کہ ہم ہی خس و خاشاک نہیں
ورنہ ان تیز ہواؤں کا بھروسہ کیا ہے

بجھ گئے ہیں جو دیے پھر سے جلائیں کہ نہیں
کوئی بتلاؤ ہمیں رنگ ہوا کا کیا ہے

ہو ملاقات اور احساس ملاقات نہ ہو
تیرا ملنا جو یہی ہے تو بچھڑنا کیا ہے

دشت کے دھوپ نے ہم کو یہ بتایا خاورؔ
اپنے گھر کے در و دیوار کا سایہ کیا ہے

رحمان خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم