MOJ E SUKHAN

کیسا جشن بہار ہے اپنا

غزل

کیسا جشن بہار ہے اپنا
گل پہ سایہ بھی بار ہے اپنا

سسکیاں لے رہی ہے شام فراق
پھر مجھے انتظار ہے اپنا

عشق کا راگ کس نے چھیڑ دیا
ہر نفس شعلہ بار ہے اپنا

کیا گلہ تیری کم نگاہی سے
کب ہمیں اعتبار ہے اپنا

نیچی نظروں سے پوچھ مت احوال
ضبط غم ہی شعار ہے اپنا

کیا ہوا زندگی نہ راس آئی
موت پر اعتبار ہے اپنا

قیس کو لوگ جب سے بھول گئے
پیرہن تار تار ہے اپنا

کیلاش ماہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم