MOJ E SUKHAN

کیسا عجب ہے خوشبوئے دلگیر کا نشہ

کیسا عجب ہے خوشبوئے دلگیر کا نشہ
جیسے کسی پرانی ہو تصویرکا نشہ

اک خوب تر سوال لکھا تھا کتاب میں
کس نے چکھا ہے مستی و توقیر کا نشہ

اک تو ترے وجود نے آتش بنا دیا
پھر یوں تمہارے قُرب کی تنویر کا نشہ

امرا ہیں آپ سے مری بس اتنی التجا
تھوڑا سا کم تو کیجیے چاگیر کا نشہ

لپٹاہوا ہے اب بھی مرےجسم وجان سے
تیرے حسین قُرب کی تاثیر کا نشہ

مدیحہ شوق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم