MOJ E SUKHAN

کیسا مکان سایۂ دیوار بھی نہیں

کیسا مکان سایۂ دیوار بھی نہیں
جیتے ہیں زندگی سے مگر پیار بھی نہیں

اٹھتی نہیں ہے ہم پہ کوئی مہرباں نگاہ
کہنے کو شہر محفل اغیار بھی نہیں

رک رک کے چل رہے ہیں کہ منزل نہیں کوئی
ہر کوچہ ورنہ کوچۂ دل دار بھی نہیں

گزری ہے یوں تو دشت میں تنہائیوں کے عمر
دل بے نیاز کوچہ و بازار بھی نہیں

آگے بڑھائیے تو قدم آپ جعفریؔ
دنیا اب ایسی وادیٔ پر خار بھی نہیں

فضیل جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم