MOJ E SUKHAN

کیسی آشفتہ سری ہے اب کے

غزل

کیسی آشفتہ سری ہے اب کے
کچھ عجب بے خبری ہے اب کے

دیکھ کر اہل گلستاں کا چلن
جان ہاتھوں میں دھری ہے اب کے

شہر کا امن و سکوں ہے عنقا
کیسی یہ فتنہ گری ہے اب کے

موسم فصل خزاں ہے پھر بھی
شاخ دل اپنی ہری ہے اب کے

کور چشموں کو خدا ہی سمجھے
دعویٰ دیدہ وری ہے اب کے

ڈر یہی ہے کہ کہیں ٹوٹ نہ جائے
شاخ پھولوں سے بھری ہے اب کے

پچھلے سالوں سے زیادہ اے شوقؔ
رنج بے بال و پری ہے اب کے

شوق ماہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم