MOJ E SUKHAN

کیسی بلبل کہاں کے پروانے

غزل

کیسی بلبل کہاں کے پروانے
تم سلامت ہزار دیوانے

ہائے کیا کیا بنائے دنیا نے
اک محبت کے لاکھ افسانے

تیری برہم نگاہ کے صدقے
آنکھ بدلی ہوئی ہے دنیا نے

ہم نے دیکھی ہے زندگی کی بہار
ہم سے پوچھو خزاں کے افسانے

اس تغافل پہ ان کو کیا کہئے
میرے ہو کر مجھے نہ پہچانے

ساری رونق تھی شمع محفل تک
اب نہ ساقی نہ مے نہ پروانے

لاکھ دانا سہی مگر واعظ
منصب عاشقی کو کیا جانے

جن میں آزادیٔ جنوں ہی نہ ہو
میرے قابل نہیں وہ ویرانے

اتنی بوجھل ہے ضبطؔ زلف حیات
آدمیت کے رہ گئے شانے

ضبط انصاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم