MOJ E SUKHAN

کیسی کیسی تھیں انہی گلیوں میں زیبا صورتیں

کیسی کیسی تھیں انہی گلیوں میں زیبا صورتیں
یاد اک اک موڑ پہ آتی ہیں کیا کیا صورتیں

نیم شب ہوتے ہیں وا جس دم دریچے یاد کے
کس ادا سے جھانکتی ہیں اب وہ رعنا صورتیں

صورتیں کچھ دیکھ کر ایسا بھی آتا تھا خیال
خاک سے ایسی کہاں ہوتی ہیں پیدا صورتیں

لوٹ کر پہلے پہل آئے تھے جب اس شہر سے
اجنبی لگتی تھیں آنکھوں کو شناسا صورتیں

آج تک وہ دل کی دیواروں پہ کندہ ہیں بشیرؔ
پھر نظر آئیں نہیں جو ماہ سیما صورتیں

بشیر احمد بشیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم