MOJ E SUKHAN

کیسے ڈوبا ڈوب گیا

کیسے ڈوبا ڈوب گیا
ڈوبنے والا ڈوب گیا

کیسی نیک کمائی تھی!
پیسہ پیسہ ڈوب گیا

ناؤ نہ ڈوبی دریا میں
ناؤ میں دریا ڈوب گیا

لوگ کنارے آن لگے
اور کنارہ ڈوب گیا

بارش اس نے بھیجی تھی
شہر ہمارا ڈوب گیا

ساری رات بتا ڈالی
تارہ تارہ ڈوب گیا

گوہرؔ پورا خواب سنا
پانی میں کیا ڈوب گیا

گوہر ہوشیار پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم