کیسے گزرے ہیں مِرے دن نہ سوالات کریں
کس لیے آپ کو ہم واقف حالات کریں
تِری تصویر سے باتیں ہی میں اب کرتی ہوں
"دوستوں کو نہیں فرصت کہ کوئی بات کریں”
رات دن میرے گزرتے ہیں تِری یادوں میں
آ مِرے سامنے جاں تجھ سے ملاقات کریں
حال میں اس کا سُنوں اور وہ مِراحال سُنے
میٹھی باتوں سے محبت کی شروعات کریں
ان کے رستوں پہ دل و جان بچھائے ہم نے
جا کہو اُن سے کہ ہم پہ بھی عنایات کریں
ہم کو معلوم ہے کچھ روز کی ہے یہ دنیا
کیوں نہ سب شاد رہیں پیار کی برسات کریں
کاش پیغام سمجھ جائیں یہ سلمٰی کا سبھی
قول ِ آقاﷺ کو سُنیں رَب کی مناجات کریں
سلمٰی رضا سلمٰی