MOJ E SUKHAN

کیف میں ڈوبی ہوئی ہے سجدہ سامانی مری

کیف میں ڈوبی ہوئی ہے سجدہ سامانی مری
جھک گئی یہ کس کے در پر آج پیشانی مری

مطمئن تھے دیدہ ودل جب حجابوں میں وہ تھے
ان کے جلوؤں نے بڑھادی اور حیرانی مری

دل گیا وارفتگیٔ شوق بھی جاتی رہی
میرے دل کے ساتھ تھی آشفتہ سامانی مری

موت کا غم ہو مجھے یہ ہو نہیں سکتا کبھی
میں تو مطلقِ جاوداں ہوں خاک ہے فانی مری

میں امینِ جلوۂ حسنِ ازل ہوں دہر میں
ہائے دنیا نے نہ کچھ بھی قدر پہچانی مری

ایک پل بھی تو نہیں غم کے سفینے کو سکوں
کیا ڈبو دے گی مجھے اشکوں کی طغیانی مری

دیکھنا اے دل کہیں یہ ان کی چوکھٹ تو نہیں
کیوں اٹھائے سے نہیں اٹھتی ہے پیشانی مری

دیکھنے والے حقارت کی نگاہوں سے نہ دیکھ
نازش دورِ جنوں ہے چاک دامانی مری

اے مذاقِ جاں دہی یہ آج تونے کیاکیا
ہوگئی محسوس قاتلؔ کو گراں جانی مری

قاتل اجمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم