MOJ E SUKHAN

کیوں سا رہتا ہے کیا سا رہتا ہے

غزل

کیوں سا رہتا ہے کیا سا رہتا ہے
دل جو کھویا ہوا سا رہتا ہے

ایک سناہٹے کا سینے میں
بھاگنا دوڑنا سا رہتا ہے

میں کہیں آؤں میں کہیں جاؤں
وقت جیسے رکا سا رہتا ہے

صبح کا دل کہیں نہیں لگتا
شام کا دم گھٹا سا رہتا ہے

دل کے آنے کا دل کے جانے کا
ایک دھڑکا لگا سا رہتا ہے

اے خلش بول کیا یہی ہے خدا
یہ جو دل میں خلا سا رہتا ہے

کن ہے درکار اس کے ہونے کو
کام وہ جو ذرا سا رہتا ہے

میر احمد نوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم